Places to Visit in Gilgit

Pakistan is considered to be a paradise on Earth considering the scenic beauty and breath taking locations. Gilgit is a stunning location of Gilgit- Baltistan province, located at an elevation of 1500m. The city is best regarded f Read More

Naltar Valley

Naltar Valley is located on 40 Kilometer and about 2 Hour drive from Gilgit Link Road, Pakistan. This place is well known for its wildlife and gloriou More »

 (Not Rated) : Rate this

Monument of Taj Mughal

Monument of Taj Mughal is located on 30 Kilometer drive from Gilgit Town, Pakistan. It was constructed to celebrate the victory of Taj Mughal about 70 More »

 4.0/5 : Rate this

Kargah Buddha

Kargah Buddha is located near Kargah Nallah (ravine) and 10 km from Gilgit Town, Gilgit, Pakistan. It's a rock statue next to the Kargah Nala, It's on More »

 3.0/5 : Rate this

Sher Qilla

Sher Qilla is located on 38 Kilometer Jeep Drive from Gilgit Town, Pakistan. It's a well known fort and having a world’s best trout fish lake to enjoy More »

 5.0/5 : Rate this

Gahkuch

Gahkuch is located on 73 Kilometer Drive from Gilgit Town, Pakistan. It's the entryway to Iskoman Valley and Headquarter of Ghizer District, start at More »

 (Not Rated) : Rate this

Gilgit Bridge

Gilgit Bridge is located on Gilgit River at End of Traditional Bazaar in Gilgit, Pakistan. It was constructed with the help of Chinese Road Bridge Con More »

 5.0/5 : Rate this

Singal

Singal is located on 61 Kilometer Jeep Drive from Gilgit Town, Pakistan. It's situated on trekking route links with Chilas and Kohistan valley. Singal More »

 5.0/5 : Rate this

Reviews on Places to Visit in Gilgit

 
proud to be GBian.
5.0/5
ihtisham muhammad mughal, gilgit on Monument of Taj Mughal 7/27/2016
 
 
امسار گلگت امسار کا لفظ بہت سارے لوگوں کے لئے ہو سکتا ہے کہ نیا ہو لیکن تاریخ سے واقفیت رکھنے والے افراد اس لفظ سے مانوس ہیں ۔تاریخی لحاظ سے گلگت کے حلقہ ون کو ہمیشہ دوسرے علاقوں پر فوقیت حاصل رہی ہے ۔گلگت کی اولین آبادی بھی اسی حلقے سے شروع ہونے کے شواہد ہیں جن کا تذکرہ تاریخ کی کتابوں میں درج ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ گلگت حلقہ ون میں واقع گائوں جسے آج کل نوپورہ کہا جاتا ہے کسی زمانے میں ناپورہ کہلاتا تھا جس کا قدیم نام امسار تھا۔۔اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کو امسار کس لئے کہا گیا۔۔بڈلف اپنی کتاب قراقرم کے قبائل میں لکھتا ہے کہ قدیم تاریخ میں ناپورہ کے باسیوں کو باقی ماندہ گلگت کے باشندوں پر فضیلت اس لئے حاصل تھی کہ ناپورہ کے باسی گلگت کے حکمران تھے۔۔۔ دوسری طرف کارل جٹ مار لکھتا ہے کہ ناپورہ کی کھدائی سے جن محلات کے کھنڈرات نمو دارہوئے یا پائے گئے ان کے متعلق عام کہاوت یہ ہے کہ یہ شری بدت کے محلات تھے جس کو گلگت کا اولین حکمران بتایا جاتا ہے۔لیکن تاریخ میں شری بدت سے پہلے بھی ایک حکمران کا ذکر ہے جس کا نام صیفور یا سیفور بتایا جاتا ہے اس کے متلق کہا یہ جاتا ہے کہ سیفور نے اپنے بھائی ناپور شاہ کے ساتھ اس علاقے پر چڑھائی کر دی اور یہاں قابض ہوا اور اس کے بھائی ناپور شاہ کی نسبت سے اس گائوں کا نام ناپور پڑ گیا جو وقت کے ساتھ ساتھ بدل کر اب نوپورہ کہلاتا ہے۔۔۔ میری معلومات کے مطابق جس قدیم حکمران کے حملے کا ذکر کیا جاتا ہے اس کا کھوج لگایا جائے اور ناپورر کے قدیم نام امسار کے بارے تحقیق کی جائے تو ہمیں امسار کا لفظ چھ سو چونتیس اور چھ سو چولیس اے ڈی خلیفہ عمر کے زمانے میں مل جاتا ہے۔ اس دور میں جن علاقوں کو فتح کیا جاتا تھا اسے امسار کا نام دیا جاتا تھا۔اور اسے گریژن یعنی فوجی چھاونی کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا ۔ آذر بائیجان کے شہر قوبا میں اسی نام کا ایک گائوں بھی ہے۔۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو تاریخ میں اس وقت کے دو مشہور فوجی چھاونیاں ( امسار ) بصرہ اور کوفہ تھے جو عراق میں ہیں ۔ اس کے علاوہ تاریخ میں چینی سیاح فاہیان کا ذکر ہے جس نےپیدل چین سے بدھ مت کے مقدس مقامات کا سفر کیاجو اب پاکستان، انڈیا ،بنگلہ دیش اور سری لنکہ میں واقع ہیں اس چینی سیاح سے پہلے کوئی بھی چینی ہندوستان نہیں آیا تھا اس کا یہ سفر ۴۰۰ عیسوی کا درج ہے اس نے نوپورہ بدھا کی نشاندہی کی ہے ۔فاہیان سیاح کے مطابق نوپورہ شوٹی میں چٹان پر کندہ بدھا کی تاریخ چار سو عیسوی سے پہلے کی بنتی ہے جبکہ کتابوں میں سات سو عیسوی درج ہے۔کیا گلگت کے امسار نوپورہ کا تعلق اس حوالے سے جوڑا جا سکتا ہے یا نہیں ؟کہیں وہ قدیم حکمران جس کا نام صیفور اور ناپور شاہ بتایا جا رہا ہےسے پہلے بھی کوئی حکمران ان علاقوں پر حملہ آور ہوا ہو اور اس حکمران نے اس جگہ جو اب نوپورہ کہلاتا ہے اپنا امسار یعنی فوجی چھاونی بنائی ہو یا بعد کے حملہ آور حکمران جس کا نام صیفور اور ناپور شاہ بتایا جا رہا ہے حملہ کر کے امسار پر قبضہ کیا ہو اور اپنے نام سے اس علاقے کا نام رکھا ہو ؟جیسے سوالات تحقیق طلب ہیں ۔جسےکوئی تاریخ دان ہی تحقیق کر سکتا ہے۔ بحر ا لحال قدیم امسار بعد کا ناپور اور آج کا نوپورہ بہت قدیمی گائوں ہے جس کی گواہی نوپورہ شوٹی کے پہاڑی کے اوپر چٹان پر کندہ بدھا جس کی تاریخ سات سو عیسوی بتائی جاتی ہے۔ اپنے اندر ایک قدیم تاریخ لئے ہوئے ہے ہدایت اللہ اختر ۳ اگست ۲۰۱۵ٔ
3.0/5
Hidayatullah Akhtar, Gilgit on Kargah Buddha 8/3/2015
 
 
love you and LOTS OF MISS YOU//////////////////..................;;;;;;;;;;;
5.0/5
[email protected] sHERIJO, GILGIT on Sher Qilla 7/31/2015
 
 
this is paradise on earth.
5.0/5
a.qadir lasi, hub on Gilgit Bridge 6/12/2015
 
 
The distance of 30 kms and drive from Gilgit means? in which direction, any landmark?? its very unfortunate that misleading information is worst than lack of information. This wrong and incomplete information is given in the map/brochure of PTDC and without photograph ( even no photo available on internet ? )......however to Mr. Amir Babiwal from Peshawar, some good information and photograph can be published, if still interested.....
1.0/5
Tahir Imran Khan, Islamabad on Monument of Taj Mughal 5/15/2014